اعتبار ساجد

آخرِ شب کا انتظار ۔۔۔ اعتبار ساجد

بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں آ مرے دل مرے غمخوار کہیں اور چلیں کوئی کھڑکی نہیں کھلتی کسی باغیچے میں سانس لینا بھی ہے دشوار کہیں اور چ...

Load More
No results found